mysterious fossilized hominid skull found in africa

 

Written by:Sanaullah Khan Ahsan



پراسرار، پرکشش اور انجانی یہ کھوپڑیاں آرٹ کا بہترین نمونہ ہیں۔ کرسٹل سے تراشی گئ یہ کھوپڑیاں ماہرین آثار قدیمہ اور سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں کہ یہ کس نے تراشیں اور ان کا مقصد کیا تھا؟ ماہرین کے مطابق کوارٹز ہیرے کے بعد دنیا کا سخت ترین مادہ ہے جس کو تراشنے کے لئے انتہائ مہارت کے ساتھ ساتھ خاص قسم کے اوزار اور بے حد باریک بینی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تراشنے کے بعد اس کی پالش اور رگڑائ بھی مہارت اور وقت مانگتی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم کو زمانہ قدیم کی حاصل کردہ یا دریافت شدہ اشیاں میں ہر طرح کے مجسمے اور تصاویر و پینٹنگز ملتی ہیں لیکن سفید دودھیا ٹرانسپیرنٹ کرسٹل سے تراشی گئ یہ کھوپڑیاں اپنی واحد مثال ہیں۔
یہ کہنا تو درست ہے کہ انسان اس زمیں پر ہزاروں صدیوں سے آباد ہے اور اس دوران وہ کیا کچھ کرتا رہا ہے اس کا مکمل اور مفصل احوال ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔قدیم تاریخ اور تہزیبوں کے بے شمار گوشے اب تک بے نقاب نہیں ہو سکے ہیں۔
ان کھوپڑیوں کے بارے میں سائنسدانوں کا ایک انتہائ محدود اور خیال یہ ہے کہ ان کو اٹھارویں صدی کے دوران تراشا گیا تھاکیونکہ اتنی مہارت سے تراشی گئ کھوپڑیوں کے لئے جن اوزاروں اور آلات کی ضرورت تھی وہ قدیم زمانے میں دستیاب نہ تھے۔ لیکن پھر ایک سوال ان کے سامنے یہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ ہزاروں برس قبل تعمیر کئے گئے عظیم الشان اہرام مصر کس طرح اتنی باریک بینی اور مہارت سے تعمیر کئے گئے کہ ایک ملی میٹر تک کا فرق نہیں آ پایا۔ ایک گروپ کا خیال ہے کہ یہ کھوپڑیاں ماضی کی عظیم اور حیران کن علم اور مہارت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اس مضمون میں ہم جائزہ لیں گے کہ یہ کھوپڑیاں کب کہاں اور کیسے دریافت ہوئیں اور ان کے ساتھ کیا داستانیں جڑی ہیں۔
ان میں سے اکثر کھوپڑیاں جنوبی امریکہ اور میکسیکو میں دریافت ہوئیں۔ ان کا تعلق مایا اور ایزٹک تہزیبوں سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کل تیرہ کھوپڑیاں تھیں جو مختلف مہم جووں اور ماہرین آثار قدیمہ کے ہاتھوں دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئیں۔ شاید یہ کھوپڑیاں مزہبی رسومات کا حصہ تھیں اور ان میں انسانی علم اور تہزیب و مزاہب کی تاریخ چھپی ہے۔ سب سے پہلی اور مشہور کھوپڑی ایک ماہر آثار قدیمہ مچل ھیجز ( Mitchell Hedges) نے
1927
میں جنوبی امریکہ کے علاقے یوٹاکان یا بیلیز کے گھنے جنگل سے مایا دور کے کھنڈرات کی کھدائ کے دوران دریافت کی تھی۔
اس کھدائ کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے کہ جب 33 ایکڑ قطعہ زمین جو مکمل طور سے گھنے اور گہرے جنگل سے ڈھکا ہوا تھا کو آگ لگا کر مکمل طور پر صاف کیا گیا تو اس کے درمیان ایک قدیم اہرام ، شہر کی دیواریں اور ایک انتہائ وسیع اسٹیڈیم نما عمارت کے آثار برامد ہوئے۔ اس اسٹیڈیم میں ہزاروں تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ اس جگہ کو مقامی زبان میں لباتون یعنی لڑھکتے پتھروں والی جگہ کہا جاتا تھا۔ اس کہ وجہ شاید یہ تھی کہ مقامی لوگ اگر کبھی کبھار بھٹک کر یہاں جا نکلتے تھے تو ان کو مختلف تعمیری پتھر اور قدیم اینٹیں وغیرہ یہاں سے دستیاب ہوتے تھے۔ بالکل جیسے موئن جو داڑو کے کھنڈرات کا نام مقامی سندھی زبان میں پڑ گیا جس کے معنی مردوں کا ٹیلہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کھدائ کے تین سال بعد جب مچلز دوبارہ اس جگہ گیا تو اس کی بیٹی اینا مچل بھی اس کے ساتھ تھی۔اینا کو یہ کھوپڑی ایک قربان گاہ کے کھنڈرات کے نیچے سے ملی تھی۔ اینا کا انتقال سو برس کی عمر میں سن 2007 میں ہوا۔ اینا اپنی آخری عمر تک اس دعوے پر قائم رہی کہ یہ کھوپڑی اسے قربان گاہ کے نیچے سے ملی تھی اور جب کبھی بھی یہ کھوپڑی اس کی خوابگاہ میں موجود رہی وہ میں مستقل قدیم مایا مندر میں مختلف مزہبی رسومات اور قربانی کے واقعات خوابوں تواتر سے دیکھتی تھی۔ اس نے یہ کھوپڑی سائنسی تجزئے کے لئے مشہور کمپنی ھیولیٹ پیکارڈ ( Hewlett Packard) کو بھی دی تھی۔ اس تجزئے کے نتائج نے اس معمے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔یہ کھوپڑی کوارٹز کے ایک ہی ٹکڑے سے تراشی گئ ہے۔ اس کا وزن تقریبا'' ساڑھے چار کلو گرام ہے۔ اس کا نچلا جبڑا انسانی جبڑے کی طرح اوپر نیچے حرکت کر سکتا ہے۔ اس کھوپڑی کو تراشنے کے لئے وہ اوزار استعمال کئے گئے تھے جن میں ہیرا استعمال ہوتا ہے۔ پھر اس کی پالش اور فنشنگ اور گھسائ کے لئے سلیکان اور پانی کا مکسچر استعمال کیا گیا۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اس تراش کے دوران ساری کٹائ کھوپڑی کے ایکسز کی مخالف سمت کی گئ جبکہ یہ ایک عام اصول ہے کہ ہیرے یا کوارٹز کی تراش کے دوران ان کو ہمیشہ ان کی مالیکیولی ساخت کے قدرتی ایکسز کی طرف تراشا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو ہیرا یا کوارٹز ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ ان کھوپڑیو کہ ایکسز کی مخالف سمت میں تراش ایک معمہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو۔ ؟
اس کے بعد ہمیں بالکل ویسی ہی دو مزید کھوپڑیاں ملتی ہیں جن کو برٹش اسکل اور پیرس اسکل کہا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں سن 1890 میں میکسیکو سے ایک تجارتی قافلے سےخریدی گئی تھیں۔ ایک کھوپڑی اب لندن کے میوزیم آف مین کائنڈ ( London’s
‏Museum of Mankind)اور دوسری پیرس کے ٹروکیڈرو میوزیم آف پیرس ( Trocadero Museum of Paris) میں رکھی گئی ہے۔
اس کے بعد مایا اور امیٹھسٹ کھوپڑیاں ہیں جو ایک مایا پجاری امریکہ لایا تھا۔ یہ بھی گوئٹے مالا اور میکسیکو سے دریافت ہوئ تھیں۔ ان کی جانچ سے بھی یہی پتہ چلا کہ ان کی تراش خراش بھی بالکل ویسی ہے جیسی پہلے ملنے والی کھوپڑیوں کی تھی۔ اس کے بعد مزید دو کھوپڑیاں جن کو میکس اور ٹیلساس کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کھوپڑیاں تبت سے تعلق رکھنے والے ایک بدھ پجاری کی ملکیت تھیں جن کو اس نے اپنا قرض اتارنے کے لئے کارل اور جو پارکس نامی امریکنوں کو دیا تھا۔
اس کھوپڑی کو جب جو نے پہلی بار دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہیہ ضرور آثار قدیمہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس نے ان کی مکمل جانچ کے لئے ماہرین سے رجوع کیا جس سے یہ بات ثابت ہوئ کہ یہ واقعی زمانہ قدیم سے تعلق رکھتی ہیں۔
اسی طرح کی ایک کرسٹل کھوپڑی 1906 میں گوئٹے مالا میں واقع مایا تہزیب کے ایک مندر کی کھدائ کے دوران دستیاب ہوئ جس کو ( Joke Van Dieten Maasland ) کا نام دیا گیا۔ ان کھوپڑیوں کے نام زیادہ تر ان کو دریافت کرنے والوں کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ جوک کا دعوی تھا کہ یہ کھوپڑی اپنے اندرشفایابی کی پراسرار طاقت رکھتی ہے اور اس سے برین ٹیومر کا مریض صحتیاب ہو گیا تھا۔
اس کے بعد ET نامی کھوپڑی دستیاب ہوئ ۔ یہ اس لہز سے مختلف ہے کہ اس کا سر نوکیلا اور نچلا جبڑا آگے کو نکلا ہوا ہے جو دیکھنے میں بالکل کسی ایلین یا دوسرے سیارے کی مخلوق جیسا لگتا ہے۔
اس کے بعد ہونڈراس اور گوئٹے مالا کی سرحد پر کھدائ کے دوران روز کوارٹز اسکل ( Rose Quartz Skull) نامی کھوپڑی دریافت ہوئ۔ یہ ساخت میں بالکل مچل ھیجز جیسی ہے۔
لندن کے میوزیم آف مین میں رکھی ایزٹک ( Aztec) نامی کھوپڑی کے بارے میں مئوزیم کے عملے کا کہنا ہے کہ یہ اپنے شیشے کے شوکیس کے اندر گھوم کر اپنا رخ تبدیل کرتی رہتی ہے جس کہ وجہ سا سارا عملہ اس سے خوفزدہ رہتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کھوپڑیاں واقعی قدیم انسانوں کی ذہانت اور علم کی گواہی دیتی ہیں یا یہ سب ایک گورکھ دھندا ہے؟ یہ تمام کھوپڑیاں ہم کو صرف جنوبی امریکہ میں ہی کیوں ملتی ہیں جبکہ دنیا کے کسی دوسرے حصے کے قدیم ترین کھنڈرات سے اس قسم کی کوئ چیز نہیں ملتی؟ سائنسدان آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ کھوپڑیاں کس نے بنائیں اور ان کا مقصد کیا تھا؟ یہ کھوپڑیاں بلاشبہ بلور کی طرح شفاف ہیں لیکن ان کا پراسرار راز اب تک گہری سیاہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔
اس موضوع پر مشہور زمانہ انڈیانا جونز سیریز کی فلم بھی بن چکی ہے جس کا نام
‏( Indiana Jones and the Kingdom of the Crystal Skull)
ہے۔یہ پوری فلم انتہائ دلچسپ ہے۔ اس فلم کے آخر میں کہانی کو اس طرح سمیٹا گیا ہے کہ یہ تیرہ کھوپڑیاں دراصل کسی دوسرے سیارے کی مخلوق کی ہیں جو کسی زمانے میں زمین پر آئے تھے۔
انڈیانا جونز کسی طرح پیرو کے قدیم مندر کے کھنڈرات میں موجود دھڑوں پر یہ تیرہ کھوپڑیاں رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ تیرھویں کھوپڑی رکھتے ہی عجیب پراسرار واقعات ہوتے ہیں۔ وہ پورا قدیم مندر ایک اڑن طشتری نما خلائ جہاز کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ زمین میں آدھے سے زیادہ دفن یہ پورا مندر گھومتا ہوا فضا میں پرواز کرجاتا ہے۔ یہ سین اس فلم کی جان ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ تو تھی فلم کی بات لیکن ان کھوپڑیوں کی اصل حقیقت اب تک تاریکی میں ہے۔
تحریر و تحقیق

تبصرے